معاف کرنے کے اقدامات

download: Pdficon.png
Odticon.png
Version: 1.3

ہم سب گہرے اور محبت بھرے تعلق کی خواہش رکھتے ہیں، لیکن بدقسمتی سے ہم سب کودوسروں سے تکلیف اور زیادتی کا تجربہ رہا ہے۔ یہ تکلیف دہ ہےاور ہم سب اس سے گزرے ہیں۔ جس طرح جسمانی زخم خراب ہو کر ناسور بنتا ہے اسی طرح اگرموقع پرعمل نا کیا جاۓ تو دل پر لگے زخم بھی تلخی میں بدل سکتیں ہیں۔ صرف وقت زخموں کو نہیں بھرتا۔
ردعمل کے طور پر ہم خود کودوسروں سے الگ کر کےاپنے گردحفاظتی دیواریں بنا لیتے ہیں۔ نتیجتا‏ہم کسی کو اپنے قریب آنے کی اجازت نہیں دیتے اور اکیلے پڑ جاتے ہیں۔ دوسری صورت میں ہم غصےکااظہار کرتے ہیں، سامنے والے کی غلطیوں کو دل سے لگا لیتے ہیں اور بدلہ لینے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس صورتِ حال میں ہمارے خیالات ہر وقت اسی تکلیف کے گرد گھومتے رہتے ہیں جو ہمیں اس شخص کی وجہ سے پہنچی ہوتی ہے۔
ان حکمتِ عملیوں کو اپنا کر ہم خود کو مزیداستحصال سے بچانے کی کوشش تو کرتے ہیں، لیکن آخرکار ہم اپنا ہی اور زیادہ نقصان کر بیٹھتے ہیں۔ مزید برآں، اگر ہم خود کسی تکلیف یا زخم سے دوچار ہوں تو دوسروں کے ساتھ محبت بھرا رویہ نہیں اپنا پاتے؛ کیونکہ ”زخمی لوگ دوسروں کو بھی زخمی کرتے ہیں۔“

اس شیطانی چکر سے نکلنے کا واحد راستہ 'معاف کر دینا' ہے، جو اس وقت بہت مشکل ہو سکتا ہے جب ہمیں شدید تکلیف پہنچی ہو۔ تاہم، جب تک ہم معاف نہیں کرتے، ہم اس شخص اور ماضی کی تلخ یادوں سے جڑے رہتے ہیں جس سے ہمیں دکھ پہنچاہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان تکلیف دہ تجربات کو محض بھلانہیں سکتے،صرف ان کی یادوں کو دبانے کی کوشش ہی کر سکتے ہیں۔ لیکن خدا چاہتا ہے کہ ہم 'آزاد' ہوں ـ تلخی سے آزاد، انتقام کی خواہش سے آزاد، اور ماضی کے دکھ سے آزاد۔

معاف کرنا کیا ہے؟

معاف کرنے کا مطلب ہے کہ دوسرے شخص کے خلاف تمام شکوے اور الزامات کو ترک کر دیاجاۓ بھلا دیا جائے۔ میں اُسں کا فیصلہ خداپر چھوڑتی/چھوڑتا ہوں۔ خود فیصلہ سنانے کے بجائے، میں اُس خدا پر بھروسہ کرتی/کرتا ہوں جو عادل منصف ہے، اور اُسی پر چھوڑ دیتی/دیتا ہوں کہ اُس شخص کے معاملے میں کیا ہوگا۔ معاف کرنے کامطلب یہ بھی ہے کہ میں اب اُس شخص کے گناہوں کا حساب نہیں رکھتا اور نہ ہی اُنہیں اُس کے خلاف بطور طعنہ استعمال کرتا ہوں۔ دوسرے لفظوں میں، چونکہ میں پہلے ہی اُس کے گناہوں کے نتائج کا سامنا کر رہی/رہا ہوں اور ماضی کو بدل نہیں سکتی/سکتا، اس لیے اب میں اس صورتحال کو قبول کر کے صلح کرتی/کرتا ہوں اور اُس شخص کو میرے ذمے واجب الادا تمام قرضوں (یا زیادتیوں) سے آزاد کرتی/کرتا ہوں۔
یہ مکمل طور پر میرااپنافیصلہ ہے۔ اس کا دوسرے شخص سے کوئی سروکار نہیں، چاہے وہ معافی مانگے یا نہ مانگے، یا وہاں موجود ہو یا نہ ہو۔ ہم معاف کرنے میں اس شخص کے محتاج نہیں ہیں جس نے ہمیں تکلیف پہنچائی۔
اگرچہ معاف کرنا دوسرے شخص کے حق میں بہتر ہے، لیکن سب سے بڑھ کر میں یہ کام اپنی بہتری کے لیے کرتا ہوں۔ جب ہم معاف کرتے ہیں تو خوف، غصے یا تلخی جیسے منفی جذبات سے آزاد ہو جاتے ہیں اور پھر دوبارہ شفایاب اور مکمل ہو سکتے ہیں۔

معاف کرنے کے مراحل

بعض اوقات ہم جلد بازی میں معافی کا اظہار کر کے آسان راستہ اختیار کر لیتے ہیں، لیکن بعد میں ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہمارے دلوں میں اُس تکلیف کے اثرات اب بھی باقی ہیں۔ تو پھر ہم دوسروں کو مکمل طور پر کیسے معاف کر سکتے ہیں؟ ذیل میں دیے گئے اقدامات معاف کرنے کے عمل میں ہماری رہنمائی اور مدد کرتے ہیں۔

ہم پہلے تین مراحل کو احتیاط سے طے کرتے ہیں، اور بہتر ہے کہ یہ کام کسی معاون کے ساتھ مل کر کیا جائے۔

(میرےساتھ) کیاہواتھا؟

  • مخصوص واقع بیان کریں کہ(میرے ساتھ) کیا ہوا تھا۔
  • عمومی غلطی: ہم بات کو عمومی اور مبہم رکھتے ہیں۔

2. کس چیز سے مجھے تکلیف پہنچی؟ میں نے کیسا محسوس کیا؟

  • جذبات ہماری شخصیت کاایک اہم اورلازمی حصہ ہیں۔
  • عام غلطی: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں اور صرف حقائق تک ہی محدود رہتے ہیں۔

3. گناہ کو نام دیں۔

  • غلطیوں کو ہلکا نہ سمجھیں اور نہ ہی ان کا جواز پیش کریں۔ اس بات کی نشاندہی کریں کہ دوسرے شخص نے اپنے کردہ یا ناکردہ کاموں کے ذریعے میرے خلاف کس طرح گناہ کا ارتکاب کیا۔
  • عام غلطی: ہم دوسرے شخص کے عمل کا جواز پیش کرنے لگتے ہیں (لیکن اگر ہم اس عمل کوگناہ ہی نہیں سمجھیں گے تو معاف کرنے کا جوازنہیں)۔

اب ہم دعاکی طرف متوجہ ہوتے ہیں اور خدا کی طرف رجوح لاتے ہیں سب کچھ اس کے حضور پیش کرتے ہیں۔

4. خدا کے حضور ناانصافی کی شکایات لے کر آئیں۔

  • ہم منصفِ حقیقی، یعنی خدا کے حضور جاتے ہیں اور اُس شخص کے خلاف شکایت پیش کرتے ہیں جس نے ہمیں دکھ پہنچایا ہے۔ ہم خدا کے سامنے اپنے دل کا حال بیان کرتے ہیں اور اُسے پہلے تین مراحل کے تمام اہم نکات سے آگاہ کرتے ہیں۔
  • عام غلطیاں: ہم اس مرحلے کو چھوڑ دیتے ہیں یاپھرخداسےاپنے جذبات چھپاتے ہیں۔

5. زبان سے بول کر معاف کریں۔

  • اب ہم زبان سے معاف کرنےکا اظہار کرتے ہیں (یعنی کہتے ہیں: ”میں فلاں شخص کو فلاں بات کے لیے معاف کرتا ہوں“) اور یہ فیصلہ کرتے ہیں کہ پورا معاملہ خدا کے سپرد کر دیں۔
  • عام غلطیاں: ہم خدا کو بتاتے ہیں کہ اُس شخص کے ساتھ کیا کیا جائے (یعنی ہم اُس دوسرے شخص کو بددعا دیتے ہیں)۔ یا پھر ہم کہتے تو ہیں کہ ہم معاف کرنا چاہتے ہیں (مثلاً: ”اے خداوند، معاف کرنے میں میری مدد کر“) لیکن درحقیقت معاف کرنے کا فیصلہ نہیں کرتے۔

اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کو خدا کے سامنے لائیں۔

خدا ہی منصف ہے اور ہمیں یہ حق حاصل ہے کہ ہر ناانصافی کو اُس کے حضور پیش کریں۔ ہماراایمان ہے کہ وہ انصاف کرے گا اور ہر ایک کا فیصلہ کرے گا – یہ ہمارا کام نہیں ہے۔ ہمیں دوسروں سے بدلہ لینے یا اُن سے انتقام لینے کا کوئی حق نہیں۔
اسی طورپرجس طرح ہم اس دنیا میں کسی جج کے سامنے الزامات یا شکایات پیش کرتے ہیں، اسی طرح ہم خدا کے حضور بھی اپنے گلے شکوے رکھ سکتے ہیں۔ ہمیں اُسے ناراض کرنے کا خوف نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہم پوری دیانتداری کے ساتھ اپنے تمام جذبات کا اظہار کر سکتے ہیں۔ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد، ہم ان الزامات کو چھوڑ دیتے ہیں اور سب کچھ خدا کے سپرد کر دیتے ہیں۔ ہم خود اُس دوسرے شخص کا فیصلہ کرنے کا سلسلہ جاری نہیں رکھتے، بلکہ فیصلہ صرف خدا پر چھوڑتے ہیں۔

مزید اشارے

معاون کی مدد لیں
معافی کے اس پورے عمل سے اکیلے گزرتے ہوئے بعض پہلوؤں کو نظر انداز کر جانے کا امکان رہتا ہے۔ کسی ایسے شخص کو تلاش کریں جو ان مراحل میں آپ کا ساتھ دے سکے اور آپ کے ساتھ مل کر دعا کر سکے!
ہمارااپنا گناہ
جب ہمیں تکلیف پہنچتی ہے، تو ہم اکثر انجانے میں دوسروں کے ساتھ برا سلوک کر بیٹھتے ہیں اور ان کے خلاف گناہ کر جاتے ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ ان باتوں کو نظر انداز نہ کیا جائے بلکہ توبہ کی جائے اور معافی مانگی جائے۔ اس حوالے سے جو بھی بات آپ کے ذہن میں آئے، اسے جلد از جلد واضح کریں!
خود کو معاف کرنا
کبھی کبھی ہم خود سے ناراض ہوتے ہیں یا کسی بات پر خود کو قصوروار ٹھہراتے ہیں۔ خدا یسوع مسیح کے وسیلے سے ہمیں معاف کرنے اور پاک کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔ خود کو معاف کرنے کا مطلب ہے اُس کی پیشکش کو قبول کرنا اور اسے اپنی ذات پر لاگو کرنا۔
خداپر ”ناانصافی کا بہتان باندھنا“
کبھی کبھار ہمارے ذہن میں خدا کے بارے میں منفی خیالات آتے ہیں یا ہم اس سے ناراض بھی ہو جاتے ہیں۔ چونکہ خدا سے کوئی غلطی سرزد نہیں ہوتی، اس لیے اس لحاظ سے ہم اسے ’معاف‘ نہیں کر سکتے۔ تاہم، یہ بات اہم ہے کہ ہم اس کے حوالے سے اپنی مایوسیوں اور منفی جذبات کو ترک کر دیں۔
معاف کرنے کے عزم پر قائم رہنا
اگر پرانے جذبات دوبارہ ابھریں تو خود کو یاد دلائیں کہ آپ پہلے ہی معاف کرنے کا فیصلہ کر چکے ہیں اور یہ جذبات عارضی ہیں۔ تاہم، یہ ممکن ہے کہ تکلیف کے کچھ ایسے پہلو یا گہری تہیں باقی ہوں جن پر آپ نے پہلی بار توجہ نہ دی ہو۔ ایسی صورت میں ہم معافی کے عمل کو دوبارہ دہرا سکتے ہیں تاکہ ان پہلوؤں یا زخموں کو بھی شفا مل سکے۔

خود کو پرکھنا/اپنا جائزہ لینا

دو منٹ نکال کر خدا سے درج ذیل سوال پوچھیں اور تحریر کریں:

اے خدا، مجھے کسے معاف کرنے کی ضرورت ہے؟
خدا کی بات سنیں اور اپنے تعلقات (والدین، خاندان، رشتہ دار، دوست، پڑوسی، ساتھی کارکن، ہم جماعت، اساتذہ، رہنما، اپنی ذات، خدا...) کا جائزہ لیں۔ مجھے کیسے اور کس نےدکھ پہنچایا؟

کسی خاص شخص کے ساتھ تعلق کے صحت مند ہونے یا کسی نہ کسی طرح اب بھی ٹوٹے ہوئے (یا خراب) ہونے کا پتہ لگانے کے لیے کچھ اشارے:

  • اس شخص کے بارے میں سوچیں: کیا آپ پورے دل سے اس کے لیے نیک خواہشات رکھ سکتے ہیں؟
  • تصور کریں کہ آپ کی اس شخص سے سڑک پر ملاقات ہو جاتی ہے: آپ کیسا محسوس کریں گے؟ کیا آپ کے دل میں اب بھی کوئی رنجش یا کدورت موجود ہے؟

مشق

میں کن تکلیف دہ معاملات کو سب سے پہلے حل کرنا چاہتا/چاہتی ہوں؟
کسےاس معاملے میں میری مدد کرنی چاہیے؟ واضح طور پر بتائیں کہ آپ کس طرح آگے بڑھیں گے!